دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا

دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا درویش مجھ کو اپنا پتا دے کے خوش ہوا پتھر نے اپنے ساتھ کے پتھر سے بات کی آئینہ آئنے کو صدا دے کے خوش ہوا اس پر کھلے نہیں ابھی وحشت کے داؤں پیچ جو میری شعلگی کو ہوا دے کے خوش ہوا ایسا کبھی ہوا تھا نہ ہوتا ہے ہجر میں لیکن یہ دل بغیر ارادے کے خوش ہوا منزل کو کیا خبر ہے کہ رستوں کے بیچوں بیچ آواز کس کو آبلہ پا دے کے خوش ہوا میں وہ ہوں جس کے حرف محبت کا نور ہیں میں وہ ہوں جس کو ظرف خدا دے کے خوش ہوا آزرؔ مجھے تو اس کی خوشی ہی عزیز تھی لیکن وہ شخص مجھ کو سزا دے کے خوش ہوا

— دلاور علی آزر

مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے

مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے عشق میں ع گرانے کی اجازت نہیں ہے خال و خد اس کے جھلکتے ہیں مرے چہرے سے جس کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہے گویا خوشبو سے گریزاں ہیں ترے شہر کے لوگ یعنی لوبان جلانے کی اجازت نہیں ہے کیا میں تجھ وصل کو تشہیر نہیں کر سکتا کیا مجھے خواب سنانے کی اجازت نہیں ہے شوق ہے مجھ کو بہت خاک اڑانے کا یہاں کیا کروں خاک اڑانے کی اجازت نہیں ہے بے سبب شور سماعت پہ گراں گزرے گا آسماں سر پہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے وقت اثر رکھتا ہے مرہم سے زیادا آزرؔ وقت سے زخم چھپانے کی اجازت نہیں ہے

— دلاور علی آزر

جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات

جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات مجھ کو لے جائے گی آکر وہ پری رات کی رات آج کی رات نصیبوں سے ملی ہے ہم کو آج کی رات ہے روحوں سے ملاقات کی رات میرے کشکول میں دن ڈوبا محبت بھرا دن میرے کشکول سے ابھری نہیں خیرات کی رات ہچکچاہٹ نہ جھجھک ہے نہ پریشانی ہے کیا عجب رات ہے بے ساختہ جذبات کی رات اس میں کیوں ہجر کے دن یاد کیے جائیں گے وصل کی رات نہیں ہوتی خرافات کی رات ہم جواباً کوئی تاویل بھی دے سکتے نہیں ہم پہ اتری ہے عجب طور سوالات کی رات پڑھ لو تحریر ہے جو لوح ازل پر آزرؔ لوٹ کر آتی نہیں کشف و کرامات کی رات

— دلاور علی آزر