دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا
دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا
درویش مجھ کو اپنا پتا دے کے خوش ہوا
پتھر نے اپنے ساتھ کے پتھر سے بات کی
آئینہ آئنے کو صدا دے کے خوش ہوا
اس پر کھلے نہیں ابھی وحشت کے داؤں پیچ
جو میری شعلگی کو ہوا دے کے خوش ہوا
ایسا کبھی ہوا تھا نہ ہوتا ہے ہجر میں
لیکن یہ دل بغیر ارادے کے خوش ہوا
منزل کو کیا خبر ہے کہ رستوں کے بیچوں بیچ
آواز کس کو آبلہ پا دے کے خوش ہوا
میں وہ ہوں جس کے حرف محبت کا نور ہیں
میں وہ ہوں جس کو ظرف خدا دے کے خوش ہوا
آزرؔ مجھے تو اس کی خوشی ہی عزیز تھی
لیکن وہ شخص مجھ کو سزا دے کے خوش ہوا
دلاور علی آزر