سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا
دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا درویش مجھ کو اپنا پتا دے کے خوش ہوا پتھر نے اپنے ساتھ کے پتھر سے بات کی آئینہ آئنے کو صدا دے کے خوش ہوا اس پر کھلے نہیں ابھی وحشت کے داؤں پیچ جو میری شعلگی کو ہوا دے کے خوش ہوا ایسا کبھی ہوا تھا نہ ہوتا ہے ہجر میں لیکن یہ دل بغیر ارادے کے خوش ہوا منزل کو کیا خبر ہے کہ رستوں کے بیچوں بیچ آواز کس کو آبلہ پا دے کے خوش ہوا میں وہ ہوں جس کے حرف محبت کا نور ہیں میں وہ ہوں جس کو ظرف خدا دے کے خوش ہوا آزرؔ مجھے تو اس کی خوشی ہی عزیز تھی لیکن وہ شخص مجھ کو سزا دے کے خوش ہوا
مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے
مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہے عشق میں ع گرانے کی اجازت نہیں ہے خال و خد اس کے جھلکتے ہیں مرے چہرے سے جس کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہے گویا خوشبو سے گریزاں ہیں ترے شہر کے لوگ یعنی لوبان جلانے کی اجازت نہیں ہے کیا میں تجھ وصل کو تشہیر نہیں کر سکتا کیا مجھے خواب سنانے کی اجازت نہیں ہے شوق ہے مجھ کو بہت خاک اڑانے کا یہاں کیا کروں خاک اڑانے کی اجازت نہیں ہے بے سبب شور سماعت پہ گراں گزرے گا آسماں سر پہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے وقت اثر رکھتا ہے مرہم سے زیادا آزرؔ وقت سے زخم چھپانے کی اجازت نہیں ہے
جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات
جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی رات مجھ کو لے جائے گی آکر وہ پری رات کی رات آج کی رات نصیبوں سے ملی ہے ہم کو آج کی رات ہے روحوں سے ملاقات کی رات میرے کشکول میں دن ڈوبا محبت بھرا دن میرے کشکول سے ابھری نہیں خیرات کی رات ہچکچاہٹ نہ جھجھک ہے نہ پریشانی ہے کیا عجب رات ہے بے ساختہ جذبات کی رات اس میں کیوں ہجر کے دن یاد کیے جائیں گے وصل کی رات نہیں ہوتی خرافات کی رات ہم جواباً کوئی تاویل بھی دے سکتے نہیں ہم پہ اتری ہے عجب طور سوالات کی رات پڑھ لو تحریر ہے جو لوح ازل پر آزرؔ لوٹ کر آتی نہیں کشف و کرامات کی رات